ایران کے نئے ہتھیار امریکا کی جانب سے کسی نئے حملے کی صورت میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ نئی جارحیت کی صورت میں ایران اپنے ہتھیار اور جنگ کا جغرافیہ تبدیل کرے گا۔ ان کا بیان ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے رپورٹ کیا۔
حسین محبی نے کہا کہ ایران ممکنہ نئے حملے کے جواب میں پہلے سے مختلف ہتھیار استعمال کرے گا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ آئندہ کارروائیوں کا دائرہ ان علاقوں تک بڑھایا جا سکتا ہے جہاں پہلے حملے نہیں ہوئے۔
ایرانی ترجمان نے ان ممکنہ نئے اہداف کے مقامات یا نئے ہتھیاروں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ ایران مستقبل میں کس نوعیت کے ہتھیار استعمال کرے گا یا کن علاقوں کو ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے نئے ہتھیاروں سے متعلق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران پہلے بھی کسی نئے حملے کی صورت میں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائی کی وارننگ دے چکا ہے۔
حالیہ صورتحال نے خطے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خلیج میں اہم تجارتی راستہ آبنائے ہرمز بھی مسلسل کشیدگی سے متاثر ہوا ہے۔ یہاں سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے صرف 17 اجناس بردار بحری جہاز گزرے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل یہ تعداد 37 تھی، جبکہ جنگ سے پہلے روزانہ اوسطاً تقریباً 125 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔
حسین محبی نے کہا کہ ایران طویل تنازع کے لیے تیار ہے اور کسی نئی جارحیت کی صورت میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرے گا۔ دوسری جانب کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچائی ہیں۔