ایرانی صدر کے استعفے کی خبر نے عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے اختیارات محدود ہونے پر عہدہ چھوڑنے کی درخواست دی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے مبینہ طور پر سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے دفتر کو آگاہ کیا کہ انہیں اہم قومی فیصلوں کے عمل میں شامل نہیں کیا جا رہا۔ دعویٰ کیا گیا کہ اس صورتحال کے باعث وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کرنے میں مشکلات محسوس کر رہے ہیں۔
بعض ذرائع نے یہ بھی کہا کہ پاسداران انقلاب اور دیگر سخت گیر سیاسی حلقوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے منتخب حکومت کے کردار کو محدود کر دیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق کابینہ اور حکومتی عہدیدار کئی اہم معاملات میں فیصلہ سازی سے دور ہو گئے ہیں۔
ایرانی صدر کے استعفے کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور علاقائی میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف تبصرے دیکھنے میں آئے۔ سیاسی مبصرین نے اس پیش رفت کو ایران کے اندرونی سیاسی ماحول اور طاقت کے توازن سے جوڑ کر دیکھا۔
تاہم ایرانی صدارتی دفتر کے حکام اور پاسداران انقلاب سے وابستہ ذرائع نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے نہ استعفیٰ دیا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی درخواست جمع کرائی ہے۔
حکام کے مطابق صدر بدستور اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور ریاستی امور معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ ان بیانات کے بعد استعفے سے متعلق خبروں کی صداقت پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اگرچہ ایرانی صدر کے استعفے کی خبر نے خاصی توجہ حاصل کی ہے، لیکن ایرانی حکومت کی جانب سے اب تک ایسی کسی پیش رفت کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔ موجودہ صورتحال میں صدر مسعود پزشکیان اپنے منصب پر برقرار ہیں جبکہ اس معاملے پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔