تہران نے بحرین اور دیگر علاقائی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف حملوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ دوبارہ ایسی اجازت دی گئی تو اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
ایران کی مستقل نمائندگی برائے اقوام متحدہ کے سیکنڈ سیکریٹری علی کریمی مقام نے پیر کو اقوام متحدہ کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات کہی۔ انہوں نے بحرین کے نمائندے کی جانب سے خطے کی صورتحال اور انسانی حقوق سے متعلق بیانات کا جواب دیا۔
ایرانی سفارتکار نے کہا کہ بحرین نے خود کو متاثرہ ملک کے طور پر پیش کیا، تاہم ان کے مطابق حالیہ واقعات کے پس منظر کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کا بیان ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
علی کریمی مقام نے الزام عائد کیا کہ بحرین نے اپنی سرزمین، فوجی اڈے اور فضائی حدود ایسی امریکی فوجی کارروائی کیلئے فراہم کیں جسے ایران اپنے ہمسایہ ملک کے خلاف غیر قانونی جنگ قرار دیتا ہے۔ ایران اس سے قبل بھی غیر ملکی فوجی کارروائیوں کیلئے علاقائی تعاون پر اعتراض کر چکا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مؤقف اختیار کیا کہ جو ملک اپنے ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، اسے اس کے ممکنہ نتائج پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایران کی وارننگ کا مرکزی نکتہ بھی یہی تھا۔
ایران کی بحرین کو وارننگ کے ساتھ دیگر علاقائی ممالک کو بھی اپنی سرزمین اور فضائی حدود حملوں کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کا کہا گیا ہے۔ علی کریمی مقام کے مطابق اگر دوبارہ ایسی اجازت دی گئی تو تہران کی جانب سے جواب دیا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایران اور خطے کے متعدد ممالک کے درمیان فوجی رسائی، فضائی حدود اور غیر ملکی کارروائیوں سے متعلق جاری اختلافات کو نمایاں کرتا ہے۔ اس صورتحال سے خلیجی ممالک کو درپیش علاقائی سلامتی کے خدشات بھی سامنے آتے ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی خطے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔