امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل بیان ایک بار پھر عالمی سیاسی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکا میں عوامی رائے کی جنگ میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور یہ صورتحال اب واضح ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے اس بیان نے امریکا اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
جو روگن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات موجود ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسرائیل امریکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے مطابق مختلف ممالک اپنے قومی مفادات کے لیے امریکی پالیسی سازوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اسرائیل اس حوالے سے خاصا مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل امریکی سیاسی فیصلوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسا ضرور ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ امریکا اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔
دوسری جانب حالیہ عوامی سروے بھی اس موضوع کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔ مختلف امریکی سرویز کے مطابق اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والے شہریوں کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ منفی رائے رکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی خاص طور پر نوجوان ووٹرز، آزاد رائے رکھنے والے افراد اور ڈیموکریٹک ووٹرز میں زیادہ نمایاں نظر آ رہی ہے۔ ان حلقوں میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، انسانی حقوق اور خارجہ پالیسی سے متعلق سوالات زیادہ شدت سے اٹھائے جا رہے ہیں، جس کا اثر عوامی رائے پر بھی پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق عوامی رائے میں تبدیلی مستقبل میں امریکی خارجہ پالیسی اور انتخابی سیاست پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اسرائیل سے متعلق امریکی سیاسی مباحث مزید اہمیت اختیار کر سکتے ہیں، جبکہ سیاسی رہنماؤں کو عوامی توقعات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔