کراچی چہلم جلوس

کراچی میں چہلم کا مرکزی جلوس سخت سکیورٹی میں جاری، ہزاروں اہلکار تعینات

کراچی چہلم جلوس منگل کے روز سخت سکیورٹی انتظامات کے دوران جاری ہے۔ پولیس کے مطابق چہلم، جو حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے 40ویں روز منایا جاتا ہے، کے سلسلے میں مرکزی جلوس نشتھر پارک سے دوپہر ایک بجے روانہ ہوا۔

چہلم کو عربی زبان میں اربعین بھی کہا جاتا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں شیعہ مسلمان اس موقع پر ماتمی جلوس اور مجالس کا اہتمام کرتے ہیں۔ کراچی میں مرکزی جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا حسینیاں ایرانی امام بارگاہ کی جانب رواں دواں ہے۔

پولیس حکام کے مطابق مرکزی جلوس کا اگلا حصہ عیدگاہ چوک پہنچ گیا جبکہ جلوس کا آخری حصہ برٹو روڈ کی جانب موجود تھا۔ سکیورٹی ادارے جلوس کے راستوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ شرکا اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

سکیورٹی اقدامات کے تحت ایم اے جناح روڈ کو گرو مندر سے ٹاور تک بند رکھا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس نے کراچی کے جنوبی، وسطی اور شرقی اضلاع کے شہریوں کے لیے متبادل راستوں کا اعلان کیا تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جا سکے۔

ٹریفک پولیس کی جانب سے ناظم آباد، لیاقت آباد، حسن اسکوائر اور دیگر علاقوں سے آنے والے شہریوں کو مختلف متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جلوس کے روٹ سے گریز کریں اور ٹریفک ہدایات پر عمل کریں۔

کراچی کے ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم کے مطابق چہلم کے موقع پر بڑے پیمانے پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق 108 جلوسوں کے لیے 7 ہزار 465 پولیس اہلکار، 501 مجالس کے لیے 2 ہزار 901 اہلکار جبکہ 642 امام بارگاہوں کے لیے 1 ہزار 113 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

کراچی چہلم جلوس کے دوران سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس نے گشت، اسنیپ چیکنگ اور اہم مقامات کی نگرانی بڑھا دی ہے۔ حکام کے مطابق تمام متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مکمل الرٹ رہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین