اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اصولی فیصلے پر غور کیا ہے، تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق حتمی اقدام سے پہلے صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون کرنے کا ایک اور موقع دیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور انتظامی مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شرکا نے امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت کے انسداد دہشت گردی اقدامات میں کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اس سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ذریعے صوبائی حکومت کو تعاون پر آمادہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری اور دیگر وفاقی وزرا شریک ہوئے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ
اجلاس میں پیش کی گئی دو خصوصی سکیورٹی رپورٹس کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹس میں افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں، مقامی سہولت کاروں اور صوبائی انسداد دہشت گردی پالیسیوں میں مبینہ خامیوں کو سکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم عوامل قرار دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق 2026 میں دہشت گردی کے 73 فیصد واقعات میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں ڈرون حملوں کے بڑھتے استعمال کی بھی نشاندہی کی گئی، جبکہ 2026 میں ایسے حملوں کی تعداد 170 بتائی گئی۔ مزید برآں، 2025 میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد کے 181 حملے ریکارڈ ہوئے، جبکہ ستمبر 2026 تک ایسے 159 واقعات رپورٹ کیے گئے۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کو وسائل کی کمی کا سامنا
سکیورٹی رپورٹس میں خیبرپختونخوا پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی عملی صلاحیتوں میں خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں، جبکہ جدید اسلحے، نگرانی کے آلات، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے نظام اور نائٹ وژن و تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی کی کمی بھی درپیش ہے۔
رپورٹس میں جنوبی اضلاع میں بکتر بند گاڑیوں کی کمی، پشاور سے باہر سیف سٹی منصوبے کی محدود توسیع اور ضم شدہ اضلاع میں تربیت و وسائل کے مسائل کا ذکر کیا گیا۔ سی ٹی ڈی کو تربیت یافتہ اہلکاروں، ضلعی دفاتر اور خصوصی آپریشنل سہولتوں کی کمی کا بھی سامنا بتایا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی نے ان مسائل پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ صوبے سے متعلق ممکنہ آئینی اور انتظامی اقدامات پر غور جاری رہا۔