جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے بڑے فیصلے کے لیے مناسب تیاری اور وسیع مشاورت ضروری ہے۔
سکھر میں جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکمرانی کا سلسلہ نواز شریف سے آصف علی زرداری اور پھر زرداری سے نواز شریف تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ قوم سے سیاسی شعور چھیننا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک عوام کا ہے اور وطن سے محبت ثابت کرنے کے لیے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
نئے صوبوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ اگر ملک میں مزید صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی بات کی جا رہی ہے تو کیا اس کے لیے ضروری تیاری مکمل کر لی گئی ہے؟
انہوں نے خاص طور پر سندھ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ اس وقت نئے صوبے یا بڑی انتظامی تبدیلی کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسے معاملات کو محض سیاسی بحث کے بجائے سنجیدہ غوروفکر اور مشاورت کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام ایک عرصے سے سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے حکمرانی، عوامی سہولیات اور وسائل کی تقسیم بہتر ہو سکتی ہے، جبکہ مخالفین سیاسی، مالی اور آئینی پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔