امریکی ایرانی کشیدگی، KSE-100 انڈیکس 1250 پوائنٹس گرگیا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو شدید مندی دیکھی گئی اور KSE-100 انڈیکس 1,250.34 پوائنٹس گرگیا۔ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ آیا۔

KSE-100 انڈیکس دوپہر ایک بج کر 14 منٹ پر 0.71 فیصد کمی کے ساتھ 1,250.34 پوائنٹس نیچے تھا۔ آٹو موبائلز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، ایکسپلوریشن کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں فروخت کا دباؤ نمایاں رہا۔

KSE-100 انڈیکس کاروبار کے آغاز ہی میں شدید دباؤ کا شکار ہوگیا۔ صبح 9 بج کر 34 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 1,663.16 پوائنٹس یا 0.94 فیصد کمی کے بعد 174,803.83 پوائنٹس پر آگیا، جس سے مارکیٹ میں ابتدائی منفی رجحان واضح ہوا۔

کاروبار کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 175,841.83 پوائنٹس جبکہ کم ترین سطح 174,701.13 پوائنٹس رہی۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں انڈیکس 176,466.99 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

دوسری جانب بدھ کو ابتدائی کاروبار میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ جاری رہا۔ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے بعد سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات بڑھے، جس سے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ ہوا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مجموعی کاروباری سرگرمی مضبوط رہی۔ تقریباً 15 کروڑ 36 لاکھ 80 ہزار حصص کا کاروبار ہوا جبکہ حصص کی مجموعی مالیت 10.82 ارب روپے رہی۔ تاہم مارکیٹ میں مجموعی طور پر فروخت کا رجحان غالب رہا۔

KSE-100 انڈیکس میں کمی کی بڑی وجہ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات ہیں۔ سرمایہ کار پاکستان کے درآمدی بل، مہنگائی اور کمپنیوں کی لاگت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ طویل کشیدگی مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔

آج KSE-100, پاکستان اسٹاک مارکیٹ, امریکا ایران کشیدگی, PSX تازہ خبر, تیل کی قیمتیں پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین