لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے میں عوامی خدمت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے محض دعوے کرنے کے بجائے مستحق افراد کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے میں مدد فراہم کرنے پر توجہ دی ہے۔
لاہور میں سندھ ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پاکستان نے ہمیں عزت اور پہچان دی ہے اور ہم اس ملک کے احسان مند ہیں۔ انہوں نے انتظامی سروس کے افسران کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی امور کی انجام دہی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر افسران کے ساتھ مل کر ٹیم کی صورت میں کام کیا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ وزارت اعلیٰ کا منصب صرف سرکاری گاڑی میں سفر کرنے یا کسی عہدے پر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ اس کی اصل ذمہ داری عوام کی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف چیلنجز کے باوجود عوامی فلاح کے لیے کام کرنے کا جذبہ برقرار رکھنا ضروری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی بہتری کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں۔
مریم نواز نے سرکاری ذمہ داریوں کے حوالے سے کہا کہ عوامی خدمت کے لیے مستقل محنت اور مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت ضروری ہے۔ ان کے مطابق دفتر آنا، حاضری لگانا اور مشکل معاملات سے گریز کرتے ہوئے صرف آسان کاموں پر دستخط کرنا سرکاری ملازمت کی اصل ذمہ داریوں کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے اپنی کابینہ کے بعض ارکان کے طرز عمل پر بھی بات کی اور کہا کہ کچھ وزرا لوگوں کو ملاقات کے لیے اپنے دروازے پر بلانے کے بعد ان کے مسائل پر توجہ نہیں دیتے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق سرکاری عہدے پر فائز شخص کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دینی چاہیے۔
اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے مستحق خاندانوں کو گھر بنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق قرض کی رقم تعمیر کے مختلف مراحل میں قسط وار جاری کی جاتی ہے، جبکہ ہر مرحلے پر مکان کی تعمیر کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ منصوبے میں چیک اینڈ بیلنس برقرار رہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ انہوں نے کسی افسر کی تعیناتی ذاتی سفارش کی بنیاد پر نہیں کروائی اور تقرریوں میں میرٹ کو اہمیت دی ہے۔ ان کے بیان میں عوامی خدمت، انتظامی جواب دہی، میرٹ پر تقرریوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے رہائشی سہولتوں کو صوبائی حکومت کی ترجیحات کے طور پر اجاگر کیا گیا۔