میر رضا کیس

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کے پولیس تفتیش پر اہم سوالات

میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے کیس کی تفتیش کے طریقہ کار پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے نوجوان تاجر کے بزنس پارٹنر احمد کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کے پاس کیس سے متعلق اہم معلومات یا کوئی راز موجود ہے تو وہ میر رضا کے اہل خانہ سے ملاقات کریں اور ان کے سوالات کے جواب دیں۔

کمیشن نے احمد کو مشورہ دیا کہ وہ میر رضا کے اہل خانہ سے براہ راست بات کریں اور اگر ان کے پاس ایسی معلومات ہیں جو کیس کے حقائق واضح کرنے میں مدد دے سکتی ہیں تو انہیں حلف نامے کے ساتھ تحریری صورت میں پیش کریں۔ کمیشن کے مطابق اس طرح اہل خانہ کے تحفظات اور سوالات کا جواب بھی دیا جاسکتا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے کیس کے سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری کے کردار پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس عمر سیال نے سوال اٹھایا کہ پوسٹ مارٹم سے لے کر شواہد جمع کرنے تک تفتیشی افسر کا مؤثر کردار کہاں نظر آیا۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر تھانے میں بیٹھے رہے اور دیگر افراد کی تیار کردہ دستاویزات پر دستخط کرتے رہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا سابق تفتیشی افسر نے کیس میں ملوث دیگر پولیس افسران کو بچانے کی کوشش کی۔

جوڈیشل کمیشن نے کیس کی مجموعی پولیس تفتیش پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیس نے کیس کو مناسب طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بعض مقدمات حل نہیں ہو پاتے، تاہم مناسب تفتیش اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے ورثا کے تحفظات کو دور کیا جاسکتا ہے۔

میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد کو ایک بار پھر مشورہ دیا گیا کہ وہ اہل خانہ سے ملاقات کرکے ان کے سوالات کا جواب دیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ اگر احمد کے پاس کیس سے متعلق اہم معلومات ہیں تو انہیں حلف نامے کے ساتھ تحریری طور پر پیش کیا جانا چاہیے تاکہ معاملے کی مزید وضاحت ہوسکے۔

میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تفتیش کے طریقہ کار پر مزید اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 33 میں سے 23 گواہوں کے بیانات تفتیشی افسر کے بجائے دیگر پولیس افسران نے قلمبند کیے، جسے ان کے مطابق کیس کے تفتیشی افسر نے کمیشن کے سامنے تسلیم بھی کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین