میر رضا کیس میں منگل کے روز اہم پیش رفت سامنے آئی۔ جوڈیشل کمیشن نے سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔
میر رضا کے والد اور بہن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے بھی سماعت میں شرکت کی اور میر رضا کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونوں کی وصولی اور جانچ سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔
وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ حکام نے میر رضا کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونے تاخیر سے لیبارٹری پہنچائے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کیا ایسے نمونوں کی کوئی مخصوص شیلف لائف ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ عمومی طور پر تاخیر سے فرق نہیں پڑتا، تاہم کیمیکل ٹریس کی جانچ متاثر ہوسکتی ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ نے مزید بتایا کہ ہائی پروفائل کیسز میں حکام عموماً نمونے لیبارٹری پہنچانے میں تاخیر نہیں کرتے۔ ان کے بیان کے بعد میر رضا کیس میں فارنزک نمونوں کی ترسیل اور جانچ پر مزید گفتگو ہوئی۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جبران ناصر کے سوالات پر اعتراض کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سوالات کمیشن کو خود کرنے چاہئیں۔ کمیشن نے اعتراض پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر خاندان سوال کرنا چاہتا ہے تو حکومت کو اس پر کیا اعتراض ہے۔
کمیشن نے سندھ کے وزیر داخلہ ضیا لنجار کو باقاعدہ نوٹس کے ذریعے طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیشن نے ایڈووکیٹ جنرل کی مداخلت اور سماعت کی حساسیت کو مدنظر رکھا۔ بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل کی مداخلت پر کارروائی معطل کردی گئی۔
کمیشن کی تازہ کارروائی سے میر رضا کیس میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کیس میں تفتیش اور فارنزک شواہد سے متعلق مختلف سوالات زیر غور ہیں جبکہ حکام شواہد اور متعلقہ افراد کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔