سندھ طاس معاہدہ

دی ہیگ عدالت کا بھارت کو پاکستان سے سندھ طاس معاہدہ برقرار رکھنے کا حکم

دی ہیگ میں مستقل ثالثی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا۔ عدالت نے بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں معاہدے کو ’التوا‘ میں رکھنے کے فیصلے کو قابلِ اجازت نہیں قرار دیا۔ اس فیصلے کے تحت بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ’التوا‘ کی اصطلاح معاہدے میں موجود نہیں اور اسے معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے دعوے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم، سندھ طاس معاہدہ کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ معاہدے میں تبدیلی یا خاتمے کے لیے دونوں ممالک کی رضامندی ضروری ہے۔

ثالثی عدالت نے بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف جوازوں کا بھی جائزہ لیا۔ ان میں پاکستان پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات، حالات میں بنیادی تبدیلی، مسلح تنازع اور جوابی اقدامات شامل تھے۔ عدالت نے ان میں سے کسی بنیاد کو معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے لیے قانونی طور پaر کافی نہیں سمجھا اور کہا کہ بھارت اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے۔

عدالت نے اسی کارروائی میں رتل ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبے سے متعلق عبوری اقدامات بھی جاری کیے۔ فیصلے کے مطابق بھارت کو ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر میں مقررہ سطح سے اوپر کنکریٹ ڈالنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات اس وقت تک لاگو رہیں گے جب تک منصوبے کے ڈیزائن سے متعلق غیر جانبدار ماہر اپنا حتمی فیصلہ نہیں دیتا۔

غیر جانبدار ماہر کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 کے آس پاس متوقع ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس فیصلے سے پہلے متنازع تعمیراتی حصوں پر اہم کام مکمل ہونے سے بعد میں تبدیلی مشکل اور انتہائی مہنگی ہوسکتی ہے۔ اسی وجہ سے ڈیم اور پاور انٹیک اسٹرکچر پر مخصوص تعمیراتی پابندیاں عائد کی گئیں۔

عدالت نے بھارت کو رتل منصوبے کے تعمیراتی شیڈول میں کسی بھی تبدیلی سے متعلق اطلاع دینے کا بھی پابند کیا ہے۔ بھارت کو یہ معلومات عدالت، غیر جانبدار ماہر اور پاکستان کو فراہم کرنا ہوں گی۔ یہ رپورٹنگ اقدام غیر جانبدار ماہر کے حتمی فیصلے تک جاری رہے گا تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں میں شفافیت برقرار رہے۔

پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق فیصلے اور عبوری حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لے گی اور یہ دیکھے گی کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے تحت دوبارہ روابط کی راہ کیسے ہموار ہوسکتی ہے۔ حکومت کے مطابق فریقین کی جانب سے قانونی ذمہ داریوں کی پابندی آئندہ روابط کی بنیاد بنے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین