امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کینیڈا تجارت کے باعث امریکا کو سالانہ 60 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈین کاروباری ادارے ٹیرف سے بچنے کے لیے امریکا منتقل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے امریکا سے باہر جانے والی بعض کمپنیاں بھی اب واپس آ رہی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ واشنگٹن مقامی سطح پر مزید مصنوعات تیار کرنا چاہتا ہے، جن میں گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ٹیرف پالیسی کا مقصد امریکی صنعت اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔
ٹرمپ نے امریکا کے ساتھ کاروبار کرنے والی کینیڈین کمپنیوں کو بھی اپنی سرگرمیاں امریکا منتقل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا منتقل ہونے والی کمپنیوں کو ٹیرف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم انہوں نے مخصوص کمپنیوں کے منصوبوں کی تفصیلات نہیں دیں۔
یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے 22 اگست کو 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے یکم جنوری 2027 سے کینیڈین گاڑیوں، ٹرکوں اور اسٹیل پر بھی 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ٹرمپ طویل عرصے سے کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو امریکا کے لیے نقصان دہ قرار دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ تجارتی نظام میں تبدیلی ضروری ہے اور کینیڈین گاڑیوں اور پرزوں کی امریکی منڈی تک رسائی پر بھی اعتراض کیا۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط حکمت عملی قرار دیا ہے۔ کینیڈا 8 ستمبر سے 20 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بڑھتی کشیدگی امریکا کینیڈا تجارت اور دونوں ممالک کے کاروباری تعلقات کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔