محکمہ ڈاک آڈٹ رپورٹ

محکمہ ڈاک کے آڈٹ میں 63 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں

محکمہ ڈاک آڈٹ رپورٹ میں مالی سال 2024-25 کے دوران 63 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور تضادات کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ آڈٹ میں بینک اکاؤنٹس کے غیر مجاز انتظام، مالی ریکارڈ میں تضادات اور واجب الوصول رقوم کی وصولی میں کوتاہی سمیت متعدد سنگین معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ 2025-26 کے مطابق وزارت مواصلات کے ماتحت کام کرنے والے محکمہ ڈاک کے مالی معاملات کا جائزہ لینے کے دوران مجموعی طور پر 63 ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان معاملات کی مزید جانچ اور ذمہ داران کے تعین کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی بے ضابطگیوں کا سب سے بڑا حصہ کمرشل بینکوں میں اکاؤنٹس کے غیر مجاز انتظام سے متعلق پانچ مختلف معاملات پر مشتمل ہے۔ ان کیسز میں 42 ارب روپے سے زائد کی رقم شامل ہے، جسے آڈٹ حکام نے قواعد و ضوابط کے مطابق مزید جانچ کا مستحق قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ آڈٹ میں مختلف مالیاتی امور سے متعلق 12 بڑے تضادات بھی سامنے آئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 20 ارب روپے سے تجاوز کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان معاملات میں مالی ریکارڈ، حسابات اور انتظامی طریقہ کار سے متعلق بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں واجب الوصول مگر وصول نہ کی جانے والی رقوم کے دو الگ معاملات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن کی مجموعی مالیت ایک ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ آڈیٹرز نے متعلقہ حکام کو ان رقوم کی وصولی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی سفارش کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں مؤثر مالی نگرانی، شفاف اکاؤنٹنگ نظام اور بروقت آڈٹ ایسے مالیاتی تضادات کی روک تھام کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ ان کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے معاملات کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کا تعین شفاف احتساب کے لیے اہم ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین