وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان سے ڈرون دراندازی کے بعد پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا۔
عطا تارڑ کے مطابق پاکستان افغانستان حملے ان مقامات کو نشانہ بنا کر کیے گئے جہاں مبینہ طور پر ڈرونز کو لانچ اور ذخیرہ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی افغانستان سے ہونے والی مبینہ ڈرون دراندازی کے جواب میں کی گئی اور نشانہ بنائے گئے مقامات کا تعلق حملوں سے تھا۔
وزیر اطلاعات نے ڈرون دراندازی کو پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی پاکستان کے دفاع کے حق کے تحت کی گئی اور اس میں مبینہ طور پر صرف ایسے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو ڈرون حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان حکام کے ساتھ افغانستان میں موجود مبینہ عسکریت پسند نیٹ ورکس کے معاملے پر بارہا اپنے تحفظات کا اظہار کرچکا ہے۔ انہوں نے افغان حکام سے ایسے گروہوں کے خلاف قابل عمل اور قابل تصدیق اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کو لاحق خطرات کو نظر انداز نہیں کرے گا، تاہم پاکستان وسیع پیمانے پر کشیدگی نہیں چاہتا۔ عطا تارڑ نے افغان حکام پر زور دیا کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں یا کسی بھی مخالفانہ کارروائی کے لیے استعمال نہ ہو۔
Update-Ghazab lil Haq
Islamabad, 24 September 2026;
Pakistan condemns in the strongest possible terms the deliberate and unlawful incursion into Pakistan by drones on 23 September 2026, launched from Afghan territory. This constitutes a blatant violation of Pakistan’s…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) September 24, 2026
یہ پیش رفت پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل سکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ افغانستان سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ چار ڈرونز طورخم کے قریب جبکہ دیگر کوہاٹ سے متصل پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2021 کے بعد سے سرحد پار عسکریت پسندی کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ اسلام آباد افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں پر پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے الزامات عائد کرتا رہا ہے جبکہ افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ تازہ پاکستان افغانستان حملے دونوں ممالک کے درمیان جاری سکیورٹی تناؤ میں ایک اور اہم پیش رفت ہیں۔