پشاور کی دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ درج مقدمے میں اسکول کے مالکان، شیئر ہولڈرز اور تعمیراتی ٹھیکیدار کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں 33 بچوں اور دو خواتین اساتذہ سمیت 35 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد متاثرہ خاندان شدید غم میں مبتلا ہیں۔
آغا میر جانی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق، اسکول کی دوسری منزل پر نرسری کلاس روم اور گراؤنڈ فلور کی چھتیں گر گئی تھیں۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمارت کی تعمیر میں ناقص مواد استعمال کیا گیا تھا، جس سے عمارت کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق، اسکول 16 مرلے کی زمین پر قائم تھا، جس کے مالکان وحید اور جاوید ہیں۔ زمین 2024 میں لیز پر حاصل کرنے کے بعد عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دیواروں اور چھتوں کی خستہ حالت سے متعلق پہلے شکایات کی گئی تھیں، تاہم مبینہ طور پر اسکول مالکان نے ان پر توجہ نہیں دی۔ ڈپٹی کمشنر کی ابتدائی رپورٹ میں بھی ناقص تعمیراتی مواد کی نشاندہی کی گئی۔
واقعے کے دوسرے روز بھی دیر کالونی میں سوگ کی فضا برقرار رہی۔ متاثرہ خاندان اپنے بچوں اور اساتذہ کی اموات کے صدمے سے دوچار رہے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق، تمام زخمیوں کو طبی معائنے اور علاج کے بعد صحت یاب ہونے پر فارغ کردیا گیا۔ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ واقعے کے روز 33 لاشیں اور 20 زخمی اسپتال لائے گئے تھے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے متاثرہ اسکول کا دورہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں اسکول مالکان سے لے کر متعلقہ سرکاری محکموں تک تمام فریقوں کی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ گورنر نے سابقہ انتظامیہ پر اسکولوں کے آڈٹ نہ کرانے پر بھی تنقید کی۔
گورنر نے جاں بحق ہونے والے ہر بچے کے خاندان کے لیے 10 لاکھ روپے اور زخمی ہونے والے ہر بچے کے لیے 2 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور اسکول چھت گرنے کے واقعے کی تحقیقات چار روز میں مکمل کی جائیں گی۔ ان کے مطابق، حکومت صرف معمول کی انکوائری تک محدود نہیں رہے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے ماضی میں قائم ہونے والی انکوائری کمیٹیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے نام پر کارروائی اکثر بیانات اور تصویری سرگرمیوں تک محدود رہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس بار اسکول سے متعلق تمام افراد اور محکموں کی ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے گا۔ تحقیقات سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ عمارت کیوں گری اور آیا اس حادثے میں غفلت کا کردار تھا۔