ایرانی صدر مسعود پیزشکیان آئندہ ہفتے کرغزستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ اجلاس منگل کو دارالحکومت بشکیک میں ہوگا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پیزشکیان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ ایران کی علاقائی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہوگا۔
روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے پیزشکیان کی اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ دونوں رہنماؤں کی چھٹی ملاقات ہوگی۔
متوقع پیزشکیان پیوٹن ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات اہم مرحلے میں ہیں۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی، معاشی تعاون اور مختلف بین الاقوامی معاملات پر مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کے رہنما اور نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں علاقائی سلامتی، اقتصادی تعلقات اور مشترکہ چیلنجز پر تعاون سمیت مختلف امور زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
پیزشکیان پیوٹن ملاقات کی اہمیت ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں بھی بڑھ گئی ہے۔ تہران کو ماسکو کے ساتھ علاقائی صورتحال پر رابطہ اور تعاون بڑھانے کا ایک اور موقع ملے گا۔
بشکیک میں ہونے والی پیزشکیان پیوٹن ملاقات پر علاقائی اور عالمی سطح پر نظر رکھی جائے گی۔ تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے ایجنڈے یا زیر بحث آنے والے مخصوص معاملات کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔