سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ آصف کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اپنے سیاسی اتحادیوں کو خوش کرنے کے لیے جو مؤقف اختیار کرنا چاہتی ہے، کرے، تاہم سندھ کو کسی بھی سیاسی تنازع میں قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیے۔
شرجیل میمن نے اپنے بیان میں صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق سیاسی مؤقف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی سرائیکی صوبے کے قیام کے حق میں دو مرتبہ قرارداد منظور کرچکی ہے۔ ان کے مطابق اس کے برعکس سندھ اسمبلی صوبے کی حدود میں مزید صوبے بنانے کی مخالفت میں اب تک آٹھ قراردادیں منظور کرچکی ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تشکیل اور انتظامی تقسیم ایک حساس معاملہ ہے، اس لیے اس پر سیاسی بیانات دیتے وقت تمام صوبوں کے مؤقف اور ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن پر زور دیا کہ وہ سندھ کے حوالے سے محتاط سیاسی رویہ اختیار کرے۔
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق سیاسی بحث ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبے کا مطالبہ بھی طویل عرصے سے سیاسی بحث کا حصہ ہے۔
اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی کے سیاسی مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں سرائیکی صوبے کی حمایت کرتی ہے، لیکن جب انتظامی یونٹس کی بات سندھ تک پہنچتی ہے تو پارٹی کی جانب سے سندھو دیش کا معاملہ زیرِ بحث آنا شروع ہوجاتا ہے۔
خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی کی اس پالیسی کو مبینہ طور پر دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مناسب وقت آنے پر وہ اس مؤقف کی تفصیل سے تشریح کریں گے۔ ان کے بیان کے بعد شرجیل میمن کی جانب سے آنے والا ردعمل سیاسی حلقوں میں جاری بحث کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔