پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی آج تہران پہنچنے والے ہیں جہاں وہ ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ محسن نقوی کا تہران دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے منجمد اثاثوں اور ایران امریکہ مذاکرات سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اس دورے کو خطے کی اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی ایرانی منجمد فنڈز سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے ممکنہ خدوخال پر بات چیت کریں گے۔ حالیہ ہفتوں میں اس معاملے پر ہونے والے رابطوں سے کچھ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تاہم فنڈز کے حجم اور ان کی ممکنہ فراہمی کے شیڈول پر ابھی اختلافات موجود ہیں۔
محسن نقوی کا تہران دورہ ایسے ماحول میں ہو رہا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے دوبارہ سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ مختلف فریقین کئی اہم معاملات کے حل کے لیے مسلسل مشاورت کر رہے ہیں تاکہ کسی متفقہ راستے تک پہنچا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے فریقوں کو پیغام دیا ہے کہ مذاکرات کو غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھا جائے گا۔ اس مؤقف نے جاری سفارتی کوششوں کو مزید اہمیت دے دی ہے اور فریقین پر پیش رفت کے لیے دباؤ بڑھا ہے۔
ایران روانگی سے قبل محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ایران سے متعلق حالیہ پیش رفت، علاقائی صورتحال اور آئندہ سفارتی رابطوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے حوالے سے اہم رہنمائی بھی فراہم کی۔
ملاقات کے دوران پاکستان کی داخلی سلامتی اور سیکیورٹی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ وزیر داخلہ نے ملک میں امن و امان کے لیے جاری اقدامات اور قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
یہ دورہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی متعدد ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ محسن نقوی نے حال ہی میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کی بھی تصدیق کی تھی۔ مبصرین کے مطابق محسن نقوی کا تہران دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔