شی جن پنگ ٹرمپ ملاقات میں عالمی تجارت اور دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات اہم موضوعات ہوں گے۔ چینی صدر شی جن پنگ 24 ستمبر کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے میں توسیع پر بھی بات متوقع ہے۔
چین کا عالمی تجارتی سرپلس مسلسل دوسرے سال ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرنے کی راہ پر ہے۔ امریکی اقدامات کے باوجود چینی برآمدات میں اضافہ جاری ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن کا معاملہ اہم بنا ہوا ہے۔
دونوں رہنما گزشتہ سال طے پانے والے تجارتی معاہدے میں توسیع کے امکانات پر بات کر سکتے ہیں۔ اس معاہدے نے محصولات میں بڑے اضافے اور عالمی معیشت پر مزید دباؤ کے خدشات کو کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔
شی جن پنگ ٹرمپ ملاقات میں تجارت کے علاوہ تائیوان کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ چین امریکی اسلحہ فروخت اور تائیوان کے لیے واشنگٹن کی حمایت پر تحفظات رکھتا ہے، جبکہ امریکا تائیوان کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتا ہے۔
چین کو اندرون ملک کمزور طلب اور جائیداد کے شعبے کے بحران جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ اس کے باوجود چینی برآمدات مضبوط رہی ہیں اور امریکا کو فروخت کی جانے والی تقریباً 6,500 مصنوعات میں سے نصف سے زیادہ کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی حکام چینی قیادت سے امریکی مصنوعات کی خریداری اور غیر قانونی منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کی روک تھام سمیت دیگر معاملات پر پیش رفت چاہتے ہیں۔ چینی کاروباری شخصیات بھی شی جن پنگ کے دورے میں ان کے ہمراہ ہو سکتی ہیں۔
شی جن پنگ ٹرمپ ملاقات کے دوران ایران کا معاملہ بھی وسیع تر مذاکرات کا حصہ بن سکتا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ چین ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، تاہم بیجنگ نے تہران پر نمایاں دباؤ ڈالنے میں محدود دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس لیے ملاقات میں تجارت کے ساتھ علاقائی اور عالمی معاملات بھی اہم رہیں گے۔