خواجہ آصف دہشتگردی بیان

دہشتگردی پر حکومت متحرک، خواجہ آصف نے افغانستان کو سخت پیغام دے دیا

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی حکومت دہشتگردی کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہیں۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں اب سیکیورٹی کے معاملے پر ایک صفحے پر ہیں۔ خواجہ آصف دہشتگردی بیان اس وقت سامنے آیا جب صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر بحث جاری تھی۔

اجلاس کے دوران جے یو آئی ف کے رہنما نور عالم خان نے خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشتگرد حملوں پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام خوف اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو عوام کے تحفظ میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت، وفاق اور سیکیورٹی ادارے اب دہشتگردی کے خلاف مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگردی کا مقابلہ صرف مشترکہ قومی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام صوبوں کو اس جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

خواجہ آصف دہشتگردی بیان میں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا بھی ذکر کیا گیا۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ پاکستان نے کابل کے ساتھ کئی بار مذاکرات کیے، جن میں ترکیہ اور قطر میں ہونے والی ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔ تاہم ان مذاکرات سے کوئی مؤثر نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت نے زبانی طور پر یقین دہانی تو کرائی، مگر تحریری ضمانت دینے سے گریز کیا۔ خواجہ آصف کے مطابق پاکستان نے سرحد پار دہشتگردی روکنے کے لیے تمام سفارتی کوششیں استعمال کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قطر اور سعودی عرب نے بھی مذاکرات میں مدد کی کوشش کی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع نے افغانستان پر پاکستان میں دہشتگردی کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خطے میں پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔ خواجہ آصف دہشتگردی بیان میں قومی سلامتی سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ حملے جاری رہے تو پاکستان جواب دے گا۔

آخر میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان افغانستان کے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہیں۔ حکومت دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین