ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران یمن تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ بیان سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان تازہ حملوں کے بعد سامنے آیا۔
سرکاری اخبار ایران ڈیلی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ یمن، باب المندب اور دیگر علاقائی مسائل طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق مستقل امن کے لیے سیاسی مذاکرات ہی مؤثر راستہ ہیں۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ یمن میں جاری صورتحال کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی کئی برسوں سے جاری علاقائی اختلافات اور تنازعات کا نتیجہ ہے۔
عباس عراقچی نے باب المندب کی تزویراتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
ایران یمن تنازع نے مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور علاقائی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ایران نے ایک بار پھر تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات پر زور دیا ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق صرف سیاسی بات چیت ہی یمن میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
ایران کے تازہ مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایران یمن تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری کو ہی مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔ عالمی برادری بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پرامن مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے۔