نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان پاکستان 2027 ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے ایس سی او کے رکن ممالک کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ستمبر میں تنظیم کی سربراہی سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔
کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ایس سی او چارٹر اور "شنگھائی اسپرٹ” سے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی اعتماد، احترام، مشترکہ ترقی اور خوشحالی علاقائی تعاون کی بنیاد ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تنظیم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق ایس سی او کو امن، اقتصادی ترقی اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ تصادم اور جارحیت کی پالیسی سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ رابطوں کا فروغ، غربت میں کمی اور اقتصادی تعاون خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ایس سی او کے علاقائی رابطوں اور اقتصادی انضمام کے وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو خطے کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے کرغز وزیر خارجہ جین بیک کولو بایف کی جانب سے دی گئی سرکاری دعوت میں شرکت کی اور کرغز صدر صدر جباروف سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے چین، ایران، قازقستان، بیلاروس، تاجکستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔
پاکستان 2027 ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، باہمی روابط، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایس سی او کے پلیٹ فارم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔