روسی وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے کہا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بات چیت تو ہو رہی ہے، لیکن عملی طور پر کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ لاوروف امریکہ روس تعلقات کے بارے میں یہ بیان عالمی سفارتی صورتحال میں جاری جمود کو ظاہر کرتا ہے۔
لاوروف کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، توانائی اور عالمی سلامتی جیسے شعبوں میں تعاون کی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن یہ صرف گفتگو تک محدود ہیں اور ان پر عمل نہیں ہو سکا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر Donald Trump نے 2024 کے انتخابات کے بعد روس کے ساتھ دوبارہ سفارتی رابطے شروع کیے۔ ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کی خواہش بھی ظاہر کی، لیکن کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
لاوروف امریکہ روس تعلقات کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سابق امریکی دور کی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں اور موجودہ پالیسی میں زیادہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ لاوروف کے مطابق توقعات کے برعکس نئی حکومت نے بھی روس پر دباؤ کی پالیسی جاری رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطہ موجود ہے، لیکن یہ صرف روایتی سفارتی سطح تک محدود ہے اور اس سے کوئی بڑا نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا۔
روسی وزیر خارجہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ماسکو امریکہ کے ساتھ بات چیت کو مثبت سمجھتا ہے، لیکن اس کے باوجود کوئی عملی فائدہ نہیں ہوا۔ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون ابھی تک صرف کاغذی منصوبوں تک محدود ہے۔
لاوروف امریکہ روس تعلقات کا یہ بیان عالمی سیاست میں اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات کے باوجود بڑے مسائل حل نہیں ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق یوکرین جنگ اور پابندیاں تعلقات میں بہتری کی بڑی رکاوٹ ہیں۔