باجوڑ آرمی کیمپ حملہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، جہاں دہشت گردوں نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک فوجی کیمپ پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران 9 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 4 سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے جمعرات کی رات دھماکا خیز مواد اور شدید فائرنگ کے ساتھ کیمپ پر حملہ کیا۔ دہشت گردوں نے مرکزی گیٹ کے ذریعے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم وہاں موجود اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔
سکیورٹی حکام کے مطابق حملہ آور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھتے تھے، جسے ریاستی سطح پر فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے۔ تنظیم نے بعد میں باجوڑ آرمی کیمپ حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
فورسز نے پوری رات دفاعی کارروائی جاری رکھی تاکہ فوجی تنصیب کو محفوظ بنایا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ دہشت گرد شدید فائرنگ اور دھماکوں کے باوجود کیمپ میں داخل ہونے میں ناکام رہے۔ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے۔
زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے شہید ہونے والے اہلکاروں کے نام فوری طور پر جاری نہیں کیے، تاہم ان کی قربانی اور بہادری کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
باجوڑ آرمی کیمپ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ چند روز قبل لکی مروت میں ایک دھماکے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ بنوں میں خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں شدت پسند حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ سکیورٹی رپورٹس کے مطابق 2025 میں دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔