ایران نے ایران امریکا امن تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی نئی امن تجویز پر اس کا جواب دے دیا گیا ہے اور سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایران کے تحفظات امریکی فریق تک پہنچا دیے گئے ہیں اور یہ عمل پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔
ایران امریکا امن تجویز پر ردعمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست نہیں بلکہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے بات چیت جاری ہے تاکہ سفارتی رابطہ برقرار رہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اگرچہ بعض بنیادی مسائل پر اختلافات موجود ہیں، تاہم مذاکرات کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور رابطے بدستور جاری ہیں۔
ترجمان نے تفصیلات فراہم کیے بغیر صرف اتنا کہا کہ تازہ ایران امریکا امن تجویز پر ردعمل میں ایران کے خدشات واضح طور پر امریکی فریق تک پہنچا دیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا ثالثی کردار خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم بنتا جا رہا ہے، جبکہ یہ سفارتی چینل صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیش رفت سست ہے، لیکن مسلسل مذاکرات خطے میں استحکام کی امید برقرار رکھتے ہیں اور ایران امریکا امن تجویز پر ردعمل اسی سفارتی عمل کا حصہ ہے۔