قطر نے کہا ہے کہ جاری پاکستانی ثالثی میں امریکہ ایران مذاکرات کو کامیابی تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔ قطر نے خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کو ضروری قرار دیا۔
دوحہ میں پریس کانفرنس کے دوران قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ابھی کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے مجوزہ معاہدے کے بعض نکات مسترد کیے جانے کے بعد فوجی کارروائی کی تیاری کی گئی تھی۔ تاہم بعد میں قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کارروائی مؤخر کر دی گئی۔
پاکستانی ثالثی میں امریکہ ایران مذاکرات نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی فوجی تصادم کے سیاسی اور معاشی اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر پڑ سکتے ہیں۔ قطر نے ایک بار پھر سفارتکاری کو بہترین راستہ قرار دیا ہے۔
ماجد الانصاری نے کہا کہ خلیجی ممالک خطے کے عوام کو کسی نئی جنگ کے اثرات سے بچانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق عام شہری کسی بھی کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں، اسی لیے قطر مذاکرات اور تحمل کی پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا۔
قطر نے اس بات پر کوئی واضح رائے نہیں دی کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں۔ ترجمان نے ٹرمپ کے بیان پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے بات چیت اور سفارتی رابطوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ مبصرین کے مطابق آئندہ چند دن انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی ثالثی میں امریکہ ایران مذاکرات اس وقت خطے کی اہم ترین سفارتی پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کی حمایت کے بعد عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا سفارتکاری مشرق وسطیٰ میں ممکنہ بڑے تصادم کو روک سکے گی یا نہیں۔