ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلین ائیر یا کھرب پتی بننے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کی کمپنی اسپیس ایکس 2026 میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ایک بڑی آئی پی او متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کی ممکنہ مارکیٹ ویلیو 1750 ارب ڈالرز تک ہوسکتی ہے۔ اگر کمپنی اس ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تو ایلون مسک کی دولت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا اور وہ دنیا کے پہلے ایک ہزار ارب ڈالرز کے مالک فرد بن سکتے ہیں۔
ایلون مسک اسپیس ایکس کے تقریباً 42 فیصد حصص کے مالک ہیں، اسی لیے کمپنی کی ویلیو میں اضافے کا سب سے زیادہ فائدہ انہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ آئی پی او ٹیکنالوجی اور خلائی صنعت کی تاریخ کی سب سے بڑی پیشکشوں میں شامل ہوسکتی ہے۔
آئی پی او دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ اسپیس ایکس کا مقصد چاند اور مریخ پر انسانی مشنز کیلئے سرمایہ اکٹھا کرنا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ انسانیت کی بقا کیلئے زمین سے باہر زندگی کے امکانات پیدا کرنا ضروری ہے۔
اگرچہ کمپنی نے باضابطہ طور پر سرمایہ کاری کی حتمی رقم ظاہر نہیں کی، تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق ایلون مسک تقریباً 75 ارب ڈالرز اکٹھا کرنا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل کے خلائی منصوبوں کو مزید تیز کیا جاسکے۔
اسپیس ایکس نے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹس تیار کرکے خلائی صنعت میں انقلاب برپا کیا جبکہ Starlink سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے عالمی انٹرنیٹ سروسز میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔
ماہرین کے مطابق ایلون مسک کو ٹریلین ائیر بننے کیلئے اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ اسپیس ایکس کو اپنی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا جبکہ Tesla میں بھی ان کی مالی کامیابی مخصوص اہداف کے حصول سے مشروط ہے۔