غزہ فلوٹیلا کارکن

غزہ فلوٹیلا کارکنوں کے اسرائیل پر سنگین الزامات

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے غزہ فلوٹیلا کارکن اسرائیلی حراست سے رہائی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے تشدد، جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے، تاہم واقعے نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔

یہ امدادی فلوٹیلا تقریباً 430 رضاکاروں اور 50 کشتیوں پر مشتمل تھا جو غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہا تھا۔ منتظمین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی سمندری حدود میں ان کشتیوں کو روک لیا تھا۔ اس مشن میں 40 مختلف ممالک کے کارکن شامل تھے۔

رہائی پانے والے کئی آسٹریلوی غزہ فلوٹیلا کارکن پیر کے روز سڈنی، میلبورن اور برسبین پہنچے۔ آسٹریلوی دستاویزی فلم ساز جولیٹ لیمونٹ نے دعویٰ کیا کہ دورانِ حراست انہیں گھسیٹا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق یہ چار دن انتہائی خوفناک تھے۔

ایک اور کارکن سام ووریپا واٹسن نے بتایا کہ ان کی پسلی ٹوٹ گئی جبکہ جسم پر زخم اور نیل پڑ گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض کارکنوں پر ٹیزر استعمال کیے گئے اور ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی فورسز نے اسٹن گرنیڈ بھی استعمال کیے۔

فلوٹیلا کے منتظم ادارے گلوبل سومود فلوٹیلا نے کہا کہ انہوں نے جنسی بدسلوکی کے کم از کم 15 واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ایک اسرائیلی کشتی کو عارضی جیل میں تبدیل کیا گیا تھا جہاں خاردار تاریں اور کنٹینرز استعمال کیے گئے۔ دوسری جانب اسرائیلی جیل حکام نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

غزہ فلوٹیلا کارکن کے ساتھ مبینہ سلوک پر اسرائیل پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کی ایک ویڈیو بھی تنقید کی زد میں آئی جس میں وہ زیرِ حراست کارکنوں کا مذاق اڑاتے دکھائی دیے۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے اس ویڈیو کو “افسوسناک اور ناقابل قبول” قرار دیا۔ آسٹریلیا اس سے قبل بن گویر پر فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزام میں سفری پابندیاں اور مالی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ اس واقعے نے غزہ سے متعلق انسانی امدادی مشنز پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین