ایران کا کویت اور بحرین کو انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران نے قشم جزیرے اور آبنائے ہرمز کے قریب مبینہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور سفارتی کوششوں کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایک ایرانی ٹینکر اور قشم جزیرے پر واقع ایک مواصلاتی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ تہران نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔
بیان میں ایران نے الزام عائد کیا کہ حملوں میں خطے کے بعض ممالک کی سہولت کاری شامل تھی اور خاص طور پر کویت اور بحرین کا نام لیا۔ اسی تناظر میں ایران کا کویت اور بحرین کو انتباہ سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنا جارحیت تصور کیا جائے گا۔
ایرانی حکام نے واضح کیا کہ ملک اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں کسی بھی حملے کے منبع اور ذمہ دار عناصر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب کویت نے اطلاع دی کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بحرین کی فوج نے بھی اپنے فضائی حدود میں کئی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا اور ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا۔
امریکہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی فوجی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور انہیں خطے میں ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں انجام دیا گیا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اس کے اقدامات کا مقصد اپنے اتحادیوں اور مفادات کا تحفظ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا کویت اور بحرین کو انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ تازہ الزامات اور فوجی کشیدگی خلیجی خطے میں استحکام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔