پاکستان تاجکستان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک نے تین سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد تجارتی حجم کو 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانا ہے۔ یہ پیش رفت دوشنبے میں منعقدہ مشترکہ تجارتی، اقتصادی اور سائنسی تعاون اجلاس کے دوران سامنے آئی۔
اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے مختلف شعبوں میں جاری تعاون کا جائزہ لیا۔ مذاکرات میں توانائی، تجارت، زراعت، صحت، ٹرانسپورٹ، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، سیاحت اور ثقافت سمیت متعدد شعبے شامل تھے۔
پاکستان تاجکستان دوطرفہ تجارت میں اضافے کے لیے دونوں ممالک نے تجارتی وفود کے تبادلوں، کاروباری ملاقاتوں اور آن لائن روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
فریقین نے ٹیرف، ضوابط اور ترجیحی شعبوں سے متعلق معلومات کے تبادلے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ دونوں ممالک نے تجارتی اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا اور ترجیحی تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
توانائی کے شعبے میں CASA-1000 منصوبے پر پیش رفت کو سراہا گیا۔ دونوں ممالک نے اس اہم علاقائی منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے تعاون جاری رکھنے اور باقی ماندہ معاملات حل کرنے پر اتفاق کیا۔
زراعت بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہی۔ پاکستان اور تاجکستان نے زرعی تجارت، بہتر پیداوار دینے والی فصلوں، اور ویٹرنری و نباتاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات پاکستان تاجکستان دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں حکومتوں نے تجارت، توانائی، زراعت، سیاحت اور علاقائی رابطہ کاری میں تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ حکام نے امید ظاہر کی کہ نیا روڈ میپ پاکستان تاجکستان دوطرفہ تجارت کو ایک نئی بلندی تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔