کمرشل خلائی اسٹیشن کی عالمی دوڑ اس وقت مزید تیز ہوگئی جب امریکی کمپنی ویسٹ نے اپنے مجوزہ ہیون-1 اسٹیشن کے لیے پہلے خلانوردی مشن کا اعلان کیا۔ یہ منصوبہ مستقبل میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے 2030 تک ریٹائر کرنے کا منصوبہ ہے۔
کمپنی کے مطابق یورپی خلانورد ارنو پروسٹ ہیون-1 کے افتتاحی مشن کا حصہ ہوں گے۔ اگر منصوبہ طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل ہوا تو یہ دنیا کا پہلا فعال کمرشل خلائی اسٹیشن بن جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلائی ادارے اور نجی کمپنیاں آئی ایس ایس کے بعد کے دور کی تیاری کر رہی ہیں۔ گزشتہ پچیس برس سے زائد عرصے سے انسان مسلسل خلاء میں موجود ہیں اور اب نئی تجارتی سہولیات کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
ہیون-1 ابتدائی طور پر ایک واحد ماڈیول پر مشتمل ہوگا اور اس میں مختصر دورانیے کے کئی خلائی مشن انجام دیے جائیں گے۔ خلانورد وہاں سائنسی تجربات اور تکنیکی جانچ کریں گے جو موجودہ خلائی اسٹیشن پر ہونے والی سرگرمیوں سے مشابہ ہوں گی۔
ویسٹ نے مستقبل میں ہیون-2 کے نام سے ایک بڑے کمرشل خلائی اسٹیشن کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ماڈیولر ڈیزائن لاگت کم کرے گا اور زیادہ خلائی مشنز کی راہ ہموار کرے گا۔
خلانوردوں کو خلا میں پہنچانے کے لیے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ اور ڈریگن کیپسول استعمال کیے جائیں گے۔ کمپنی کے مطابق دوبارہ استعمال ہونے والی راکٹ ٹیکنالوجی نے خلائی سفر کو نسبتاً کم خرچ اور زیادہ قابل رسائی بنا دیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں کمرشل خلائی اسٹیشن عالمی خلائی معیشت کا اہم حصہ بن جائیں گے۔ نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری خلا میں تحقیق، سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔