بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی جماعت پر مسلسل دباؤ ڈالا گیا تو پارٹی سسٹم میں اپنی موجودگی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات گلگت بلتستان میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سیاسی حالات ایسے نہ بنائے جائیں کہ جماعت کو یہ سوچنا پڑے کہ موجودہ سیاسی نظام میں رہنے کا کیا فائدہ ہے۔ ان کے مطابق مسلسل دباؤ سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتا ہے۔
بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کی انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کو انتخابی مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے جس سے سیاسی مقابلے کی فضا متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو انتخابی مہم سے روکنا یا مختلف پابندیاں عائد کرنا پری پول دھاندلی کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی نے اپنے خطاب میں سیاسی مخالفین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بعض جماعتیں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے رجوع کرنے کے بجائے دیگر سیاسی طریقوں پر انحصار کر رہی ہیں۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے ووٹ کا فیصلہ آزادانہ طور پر کریں گے۔ ان کے مطابق علاقے کے ووٹرز سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخاب کریں گے۔
جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے یہ بیانات سیاسی بحث کا حصہ بن رہے ہیں۔ مختلف جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں جبکہ انتخابی ماحول مزید گرم ہوتا جا رہا ہے۔