کیئر اسٹارمر ایلون مسک

کیئر اسٹارمر کا ایلون مسک پر برطانیہ میں تقسیم کو ہوا دینے کا الزام

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ٹیکنالوجی کے شعبے کی معروف شخصیت ایلون مسک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حالیہ دنوں میں برطانیہ کے سیاسی اور سماجی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کر کے معاشرے میں تقسیم کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ان کے اس بیان نے برطانوی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ایلون مسک کی جانب سے مختلف سماجی اور سیاسی معاملات پر کیے جانے والے تبصرے عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے بیانات حساس حالات میں معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم کا یہ ردعمل ہینری نوواک کے المناک قتل کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اس افسوسناک واقعے کے تناظر میں زور دیا کہ عوامی گفتگو کا مرکز متاثرہ خاندان اور انصاف کا عمل ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے بیانات جو معاشرے میں اختلافات کو مزید گہرا کریں۔

کیئر اسٹارمر نے ہینری نوواک کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کی اور ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہینری نوواک ایسی مثبت اور دیرپا میراث کا مستحق ہے جو آنے والے برسوں تک لوگوں کو یاد رہے اور معاشرے میں بہتری کا باعث بنے۔

برطانوی وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز رکھنے والی بااثر شخصیات کو اپنے اثر و رسوخ کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سطح پر دیے جانے والے بیانات کے دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل کیئر اسٹارمر نے رکن پارلیمنٹ جیس اساٹو کی بھی حمایت کی تھی، جنہوں نے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ اس حمایت کو آن لائن ذمہ داری اور ڈیجیٹل احتساب کے حوالے سے حکومت کے مؤقف کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ معاملہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والی ٹیکنالوجی شخصیات سیاسی مباحث پر کس حد تک اثر انداز ہونی چاہئیں۔ آنے والے دنوں میں برطانیہ میں سوشل میڈیا، اظہارِ رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل ذمہ داری کے موضوعات پر مزید بحث متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین