اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجوزہ بجٹ دستاویزات کے مطابق شہر میں ٹرانسپورٹ، بنیادی ڈھانچے، پانی کی فراہمی، نکاسی آب، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں متعدد منصوبوں کے لیے رقوم رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق کراچی کی گرین لائن بس سروس کی بہتری اور آپریشنل ضروریات کے لیے ایک ارب 98 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فنڈنگ کا مقصد شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بھی نمایاں فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع غربی میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 26 کروڑ روپے جبکہ ناظم آباد اور لیاقت آباد میں ترقیاتی کاموں کے لیے 37 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسی طرح لانڈھی، زمان ٹاؤن اور کورنگی کے علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے نظام اور کھیل کے میدانوں کی بہتری کے لیے 35 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد شہری سہولیات میں بہتری لانا اور مقامی مسائل کو کم کرنا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ضلع وسطی میں سڑکوں، گلیوں، پانی اور نکاسی آب کے منصوبوں کے لیے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے جبکہ ضلع کورنگی اور ملیر میں اسی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 5 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کراچی میں چند نئے منصوبوں کے آغاز پر بھی غور کر رہی ہے۔ مجوزہ منصوبوں میں جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کے لیے 40 کروڑ روپے، نیشنل ریسرچ اینڈ فرٹیلیٹی کیئر سینٹر کی اپ گریڈیشن کے لیے 39 کروڑ روپے شامل ہیں۔
مزید برآں کراچی میں نیشنل یونیورسٹی آف نرسنگ کے قیام کے لیے 5 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے بجٹ میں منظور ہو جاتے ہیں تو کراچی کے صحت، تعلیم اور شہری انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے، جس سے لاکھوں شہری مستفید ہو سکیں گے۔