اسلام آباد: ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں 0.56 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی مجموعی شرح 14.75 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ 10 اشیاء سستی ہوئیں اور 19 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ یہ صورتحال ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ اضافہ پیاز اور آلو کی قیمتوں میں ہوا۔ پیاز 28.16 فیصد اور آلو 21.91 فیصد مہنگے ہو گئے، جس سے عام صارفین کے بجٹ پر مزید دباؤ پڑا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کے لیے۔
اس کے علاوہ آٹا، گھی، کوکنگ آئل، تازہ دودھ اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو روزمرہ استعمال کی اہم اشیاء ہونے کے باعث مہنگائی کے اثرات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ چکن 9.48 فیصد اور لہسن 9.13 فیصد سستا ہوا، جس سے صارفین کو جزوی ریلیف ملا۔ یہ کمی خوراک کی مجموعی مہنگائی میں معمولی بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں ڈیزل 7.01 فیصد اور پیٹرول 6.80 فیصد سستا ہوا۔ اس کمی سے ٹرانسپورٹ اور روزمرہ نقل و حمل کے اخراجات میں کچھ حد تک کمی آنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی کمی مثبت اشارہ ہے، تاہم اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ معاشی عدم استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مستقل اور مؤثر معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔