اسرائیل کے آذربائیجان میں خفیہ اڈے ایک نئی بین الاقوامی رپورٹ کے بعد توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان میں خفیہ طور پر اپنے فوجی اور انٹیلیجنس یونٹس تعینات کیے تھے تاکہ مختلف آپریشنز میں مدد حاصل کی جا سکے۔
رپورٹ میں چار باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اہلکار آذربائیجان کے جنوبی علاقوں میں متعدد مقامات سے سرگرم تھے۔ بعض مقامات ایرانی شہر تبریز کے قریب واقع تھے، جس کے باعث اسرائیل کو شمالی ایران میں ہونے والی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھنے کا موقع ملا۔
سی این این کے مطابق ان مقامات پر اسرائیلی اسپیشل فورسز، انٹیلیجنس اہلکار اور ڈرون آپریٹرز موجود تھے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان یونٹس نے معلومات جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز میں کردار ادا کیا، جس سے اسرائیل کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے آذربائیجان میں خفیہ اڈے مشرقِ وسطیٰ میں قائم ایک وسیع خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ اسی نوعیت کی تنصیبات عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ میں بھی موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر ان مراکز کو ہنگامی امداد اور ریسکیو مقاصد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
سی این این کا کہنا ہے کہ بعد میں ان تنصیبات کا دائرہ کار بڑھا کر انہیں فوجی اور انٹیلیجنس سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ آذربائیجان میں موجود یونٹس میں اسرائیلی اسپیشل آپریشنز فورسز، ایلیٹ ریسکیو ٹیمیں اور موساد کے اہلکار شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان تعیناتیوں سے جڑے اہم آپریشنز میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر انٹیلیجنس عہدیدار رحمان مقدم کو نشانہ بنانے کی کارروائی بھی شامل تھی۔ دعویٰ کیا گیا کہ اس کارروائی کے اگلے روز آذربائیجان کے علاقے نخچیوان کے ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ ہوا تھا۔
تاہم آذربائیجان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ امریکا میں آذربائیجان کے سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ ان کی سرزمین کسی تیسرے ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ یہ رپورٹ اس سے قبل عراق اور دیگر ممالک میں مبینہ اسرائیلی خفیہ تنصیبات سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے بعد منظر عام پر آئی ہے۔