امریکا ایران امن معاہدے کا پاکستان پر اثر

امریکا ایران امن معاہدے کا پاکستان پر اثر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے

امریکا ایران امن معاہدے کا پاکستان پر اثر انتہائی مثبت ثابت ہو سکتا ہے اور ایک نئی رپورٹ کے مطابق اس سے پاکستان کو 20 ارب ڈالر تک کے اقتصادی فوائد حاصل ہونے کا امکان ہے۔ کے ٹریڈ سیکیورٹیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مرحلہ وار معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان کو خطے کے بڑے معاشی فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں معمول کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی پاکستان کی معیشت کے لیے اہم پیش رفت ہوگی۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے علاقائی تجارت اور اقتصادی روابط میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔

امریکا ایران امن معاہدے کا پاکستان پر اثر مختلف شعبوں میں نمایاں ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی رسک ریٹنگ بہتر ہو سکتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کو برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

اس کے علاوہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کی شرح کم ہونے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ کھاتے میں سالانہ کئی ارب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے، جبکہ سعودی عرب کے ترقیاتی منصوبوں کے باعث پاکستانی افرادی قوت کی طلب بھی بڑھ سکتی ہے۔

گوادر بندرگاہ کو اس صورتحال کا ایک اہم فائدہ اٹھانے والا قرار دیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہونے کی وجہ سے گوادر کی تجارتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور بندرگاہ کی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں ایران کے ساتھ تجارت کے نئے امکانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پابندیوں میں نرمی کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت 2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس میں سیمنٹ، ٹیکسٹائل، چاول، پھل اور طبی مصنوعات کی برآمدات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

امریکا ایران امن معاہدے کا پاکستان پر اثر توانائی کے شعبے میں بھی نمایاں ہو سکتا ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ فعال ہونے کی صورت میں سالانہ اربوں ڈالر کی بچت ممکن ہے۔ ماہرین کے مطابق سی پیک کی توسیع، بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور بہتر علاقائی روابط پاکستان کی اقتصادی ترقی کو نئی رفتار دے سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین