ایس بی پی کے زرمبادلہ ذخائر میں ہفتہ وار بنیاد پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 29 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ذخائر 43 ملین ڈالر بڑھ کر 17.19 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
یہ اضافہ اگرچہ محدود ہے، تاہم اسے پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں استحکام ملکی معیشت کے لیے اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 22.636 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔ ان ذخائر میں مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں دونوں کے پاس موجود غیر ملکی کرنسی کے اثاثے شامل ہیں۔
کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر 5.446 ارب ڈالر رہے۔ یہ ذخائر ملکی مالیاتی نظام کو اضافی سہارا فراہم کرتے ہیں اور مجموعی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایس بی پی کے زرمبادلہ ذخائر 17.147 ارب ڈالر تھے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ان میں معمولی مگر مثبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو بیرونی آمدن اور ادائیگیوں میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر کی سطح سرمایہ کاروں کے اعتماد، درآمدی ادائیگیوں کی صلاحیت اور کرنسی کے استحکام کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے ان اعداد و شمار پر مالیاتی منڈیوں کی گہری نظر رہتی ہے۔
اگرچہ حالیہ اضافہ محدود ہے، تاہم ایس بی پی کے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری پاکستان کے بیرونی شعبے کے لیے حوصلہ افزا اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔ ماہرین آئندہ ہفتوں میں ذخائر کی صورتحال کو ملکی معاشی استحکام کے تناظر میں اہمیت سے دیکھ رہے ہیں۔