ٹرمپ نے اسٹیفن بائر کو معاف کر دیا

ٹرمپ نے اسٹیفن بائر کو معاف کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق ریپبلکن رکن کانگریس اسٹیفن بائر کو مکمل معافی دے دی ہے، جس سے ایک بار پھر اس اہم مالیاتی مقدمے پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیا گیا اور امریکی سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا۔ اس اقدام نے صدارتی معافیوں اور مالیاتی جرائم سے متعلق سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اسٹیفن بائر کی فوجی اور سیاسی خدمات نمایاں اور مؤثر رہی ہیں۔ صدارتی فرمان میں کہا گیا کہ متعدد موجودہ اور سابق اراکین کانگریس کی سفارشات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ انتظامیہ نے ان کی عوامی خدمات کو معافی کی ایک اہم بنیاد قرار دیا۔

یہ مقدمہ اس الزام کے گرد گھومتا تھا کہ بائر نے بطور کارپوریٹ کنسلٹنٹ خفیہ کاروباری معلومات سے فائدہ اٹھایا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ انہوں نے کمپنیوں کے درمیان مجوزہ انضمام کی معلومات ملنے کے بعد حصص خریدے۔ بعد ازاں یہی لین دین سیکیورٹیز فراڈ کے الزامات کی بنیاد بنا۔

سال 2023 میں ایک وفاقی جیوری نے اسٹیفن بائر کو سیکیورٹیز فراڈ کے متعدد الزامات میں قصوروار قرار دیا تھا۔ عدالت نے بعد میں انہیں 22 ماہ قید کی سزا سنائی۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ انہوں نے غیر عوامی معلومات سے مالی فائدہ حاصل کیا۔

حکام کے مطابق بائر نے ایک اور کارپوریٹ خریداری سے متعلق حصص کی تجارت سے بھی نمایاں منافع کمایا۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ ان سودوں سے انہیں لاکھوں ڈالر کا فائدہ ہوا۔ استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدامات منصفانہ مارکیٹ اصولوں کے خلاف تھے۔

مقدمے کے دوران اسٹیفن بائر نے تمام الزامات کی تردید کی اور اپنے دفاع میں عدالت میں بیان بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سرمایہ کاری کے فیصلے قانونی تھے اور اندرونی معلومات پر مبنی نہیں تھے۔ سزا کے بعد بھی انہوں نے قانونی اپیلوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

اس سال امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اپیل سننے سے انکار کے بعد معاملہ تقریباً اختتام کو پہنچ گیا تھا۔ تاہم ٹرمپ نے اسٹیفن بائر کو معاف کر دیا، جس سے سزا کے قانونی اثرات ختم ہو گئے۔ اس فیصلے سے صدارتی اختیارات، اندرونی تجارت کے قوانین اور عوامی عہدیداروں کی جوابدہی پر نئی بحث متوقع ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین