فیصل ممتاز راٹھور کا بیان

فیصل ممتاز راٹھور کا بیان، انتشار پھیلانے والوں سے بات چیت ختم

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر  فیصل ممتاز راٹہور نے اعلان کیا ہے کہ سیاست کے نام پر انتشار پھیلانے والے عناصر سے اب مزید کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ فیصل ممتاز راٹھور کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی کشیدگی اور احتجاجی سرگرمیوں پر بحث جاری ہے۔

اپنے بیان میں وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ حکومت بخوبی جانتی ہے کہ بعض عناصر کو ریاستی استحکام سے کیوں مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق مخصوص سیاسی گروہ اور سوشل میڈیا پر سرگرم بعض حلقے آزادکشمیر میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج، دھرنوں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث عناصر نے متعدد مواقع پر مذاکرات سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ماضی میں کئی بار مذاکرات کی کوشش کی لیکن جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

فیصل ممتاز راٹھور کا بیان مزید سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کی قیادت کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ان کے مطابق ریاست شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیتی ہے، تاہم دباؤ ڈالنے یا بلیک میلنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وزیراعظم نے آزادکشمیر میں عوامی سہولیات اور فلاحی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں سیاسی اور انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ سستی بجلی اور آٹے جیسی مراعات عوام کو فراہم کی جا رہی ہیں، جو حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا ثبوت ہیں۔

یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے گزشتہ روز جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا۔ حکام نے کمیٹی کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

ادھر کالعدم قرار دی گئی تنظیم نے 9 جون کو ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔ مبصرین کے مطابق فیصل ممتاز راٹھور کا بیان حکومت کے سخت مؤقف کی نشاندہی کرتا ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال مزید توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین