اسرائیل ایران کشیدگی پیر کے روز مزید بڑھ گئی جب اسرائیل نے ایران کے ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ اور دیگر فوجی اہداف پر حملوں کی تصدیق کی۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب سفارتی کوششیں جاری تھیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید حملوں سے گریز کی اطلاعات بھی موجود تھیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حملوں میں جنوب مغربی ایران کے مہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے بعض حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی تنصیب کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔
یہ حملے ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل فائر کیے جانے کے بعد کیے گئے۔ اسرائیل نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا جبکہ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے فضائی طور پر داغے جانے والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔
بڑھتی ہوئی اسرائیل ایران کشیدگی کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ یمن کے حوثی گروپ نے اسرائیل پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل سے منسلک بحری جہاز دوبارہ بحیرہ احمر میں نشانہ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو متاثر نہیں کریں گی۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اسرائیلی قیادت پر زور دیا کہ سفارتی عمل کو موقع دیا جائے۔
ان حملوں کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی گئی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ سپلائی رکاوٹوں اور تجارتی راستوں پر اثرات کے خدشات کا اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل ایران کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سفارتی کامیابی یا ناکامی پورے خطے کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کی توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا مذاکرات بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں یا نہیں۔