مشرق وسطیٰ امن معاہدہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگر پیش رفت جاری رہی تو آئندہ دو سے تین دن میں اہم پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ایک مثبت نتیجے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ رابطوں اور سفارتی کوششوں نے فریقین کو ایک ممکنہ سمجھوتے کے قریب لانے میں مدد دی ہے۔ ان کے بیان نے عالمی سطح پر امیدیں بڑھا دی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے فوری معاہدے کے امکان پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق کئی اہم معاملات ابھی حل طلب ہیں۔
مشرق وسطیٰ امن معاہدہ پر بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی بڑھی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے کیے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس صورتحال نے خطے کی حساس سکیورٹی صورتحال کو نمایاں کیا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور ایران نے وقتی طور پر مزید کشیدگی سے گریز پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ حالیہ گفتگو مثبت رہی اور دونوں فریق فوری طور پر مزید کارروائی سے گریز کریں گے۔ اس پیش رفت نے سفارتی کوششوں کو تقویت دی ہے۔
مذاکرات میں سب سے اہم مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکہ مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کسی بھی مشرق وسطیٰ امن معاہدہ میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی ضمانت شامل ہونی چاہیے۔ دوسری جانب ایران پابندیوں کے خاتمے اور اپنے مالی اثاثوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے چند دن مشرق وسطیٰ امن معاہدہ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے خطے اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔