پشاور میں دہشتگرد حملہ اس وقت ناکام بنا دیا گیا جب دہشتگردوں نے حسن خیل کے علاقے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ایک چوکی پر قبضے کی کوشش کی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق چوکی کے دفاع کے دوران چھ اہلکار شہید جبکہ چار زخمی ہوگئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح دہشتگردوں نے اچانک حملہ کیا اور چوکی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم تعینات اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور ان کے عزائم ناکام بنا دیے۔
سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں آٹھ دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ اضافی نفری کو فوری طور پر علاقے میں بھیجا گیا جس کے بعد دہشتگردوں کے خلاف آپریشن مزید تیز کر دیا گیا۔ فورسز نے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں بھی شروع کر دیں۔
ذرائع کے مطابق حملے کے دوران تین ایف سی اہلکاروں کو دہشتگرد اپنے ساتھ لے گئے۔ سکیورٹی ادارے مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کارروائی کر رہے ہیں جبکہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
پشاور میں دہشتگرد حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متعدد حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق ملک میں حالیہ عرصے کے دوران خودکش حملوں اور دہشتگرد کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں نے انسداد دہشتگردی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف آپریشنز شروع کر رکھے ہیں۔
حسن خیل واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔