مشرق وسطیٰ کشیدگی

روس کا مشرق وسطیٰ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار

روس نے بڑھتی ہوئی مشرق وسطیٰ کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں سے فوری تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوجی کارروائیاں روکنے کی اپیل کی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ماسکو خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

زاخارووا نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فوجی حملے بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسی کارروائیاں مشرق وسطیٰ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

روس نے ایران کے خلاف مزید امریکی فوجی کارروائیوں کی دھمکیوں پر بھی تنقید کی۔ زاخارووا کے مطابق ایسے اقدامات بحران کے حل کے بجائے حالات کو مزید خراب کریں گے اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے۔

ماسکو نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ روس کا مؤقف ہے کہ تمام مسائل کا حل بین الاقوامی قانون، باہمی احترام اور علاقائی ممالک کے سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نکالا جانا چاہیے۔

یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے بعد مشرق وسطیٰ کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

بعد ازاں ایران نے خطے میں متعدد امریکی فوجی اہداف پر جوابی حملوں کا اعلان کیا۔ تازہ صورتحال نے وسیع تر جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جبکہ روس نے اس بحران کے پرامن حل کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین