ریاض ایئر کا آغاز

سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باوجود ریاض ایئر کا آغاز کردیا

سعودی عرب نے اپنے نئے قومی فضائی ادارے ریاض ایئر کا آغاز کر دیا ہے، جو ملک کی معیشت کو تیل پر انحصار سے کم کرنے اور ایوی ایشن سیکٹر کو ترقی دینے کے وژن 2030 منصوبے کا اہم حصہ ہے، تاہم یہ آغاز موجودہ مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باوجود کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز ریاض ایئر کی پہلی بوئنگ 787 ڈریم لائنر پرواز لندن کے لیے روانہ ہوئی، جو ایک سال سے زائد تاخیر کے بعد سروس میں داخل ہونے کا آغاز ہے۔ تاخیر کی وجہ طیاروں کی ترسیل اور عالمی سپلائی چین کے مسائل بتائے گئے۔

یہ منصوبہ سعودی عرب کے وژن 2030 کا اہم جزو ہے جس کا مقصد دارالحکومت ریاض کو عالمی ایوی ایشن حب بنانا ہے جو دبئی جیسے بڑے مراکز کا مقابلہ کرے گا۔ ایئرلائن پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کے تحت کام کر رہی ہے۔

سی ای او ٹونی ڈگلس نے کہا کہ ریاض ایئر عالمی معیار کی لگژری اور جدید سہولیات کے ساتھ ایوی ایشن میں ایک نیا معیار قائم کرے گا، اور یہ منصوبہ کئی سال کی محنت کا نتیجہ ہے۔

سعودی عرب ایک بڑا نیا ایئرپورٹ بھی تعمیر کر رہا ہے جس کی سالانہ گنجائش 120 ملین مسافروں تک ہوگی، جبکہ 2030 تک مجموعی ہوائی ٹریفک کو تین گنا بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ریاض ایئر کے لیے 132 بوئنگ 787 اور اضافی ایئربس طیاروں کے آرڈرز دیے گئے ہیں، اور کمپنی آئندہ پانچ سال میں 100 سے زائد بین الاقوامی شہروں سے رابطہ قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب خطے میں پہلے ہی سخت مقابلہ اور جغرافیائی غیر یقینی صورتحال موجود ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کشیدگی کے تناظر میں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین