بجٹ 2026-27

پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب تقریباً 17.5 ہزار ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کریں گے۔ اس بجٹ کو ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی فلاح کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار 267 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ہدف مالی استحکام کو بہتر بنانے اور حکومتی آمدن میں اضافے کے لیے اہم ہوگا۔

قرضوں کی ادائیگی بجٹ کا سب سے بڑا خرچ رہے گی۔ اندازے کے مطابق 7 ہزار 824 ارب روپے صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے جائیں گے، جو قومی مالی وسائل پر نمایاں دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

دفاعی شعبے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے جانے کی توقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 3 ہزار ارب روپے دفاعی اخراجات کے لیے رکھے جائیں گے تاکہ قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے بھی خوشخبری متوقع ہے۔ حکومت تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر غور کر رہی ہے، تاہم حتمی شرح کا اعلان بجٹ تقریر کے دوران کیا جائے گا۔

پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1 ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ مالی سال میں برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

حکومت نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے بجائے جاری منصوبوں کی تکمیل پر توجہ دے گی۔ دوسری جانب سابق فاٹا کے لیے موجود ٹیکس استثنا ختم کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بجٹ پیش ہونے سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بجٹ کی حتمی منظوری دے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین