ترکی کو ایف 35 جنگی طیاروں

نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ترکی کو ایف 35 نہ دینے کی درخواست، نیٹو اجلاس سے قبل اہم پیش رفت

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ترکی کو ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت روکنے کی درخواست کی ہے۔ یہ پیش رفت نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل سامنے آئی ہے، جہاں ٹرمپ کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات متوقع ہے۔ نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ ترکی کی فضائی طاقت میں اضافہ خطے کے سیکیورٹی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں ترکی کے ساتھ ممکنہ دفاعی تعاون بھی زیر بحث آیا۔ اس میں تقریباً 700 ملین ڈالر مالیت کے فائٹر جیٹ انجنوں کی فراہمی اور ترکی کی ایف 35 پروگرام میں ممکنہ واپسی پر بھی بات چیت شامل تھی۔ امریکہ نے 2019 میں روسی ایس-400 دفاعی نظام خریدنے پر ترکی کو اس پروگرام سے خارج کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے گفتگو کے دوران ترک قیادت کی حالیہ اسرائیل مخالف بیانات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے حالات میں جدید جنگی ٹیکنالوجی یا طیاروں کی فراہمی پر فیصلہ کرتے وقت واشنگٹن کو خطے کی مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے حالیہ دنوں میں اسرائیل پر سخت تنقید کی ہے جبکہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی اسرائیلی حکومت کے خلاف عالمی سطح پر مزید اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان بیانات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

نیتن یاہو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کو جدید لڑاکا طیارے یا متعلقہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے اسرائیل کی روایتی عسکری برتری متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہی برتری مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے تحفظات سنے، تاہم فوری طور پر امریکی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے ٹرمپ اردوان کو اسرائیل کے حوالے سے اپنے بیانات میں نرمی اختیار کرنے کا مشورہ دیں، لیکن دفاعی معاہدوں پر کوئی باضابطہ فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

نیٹو اجلاس کے دوران امریکہ، ترکی اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات پر عالمی توجہ مرکوز رہے گی۔ اگر واشنگٹن ایف 35 پروگرام یا دیگر دفاعی معاہدوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ نیٹو اتحادیوں کے تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین