شام کے دارالحکومت دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دورے کے دوران ہونے والے دو دھماکوں میں کم از کم 18 افراد زخمی ہوگئے۔ میکرون کے دورے کے دوران دمشق میں دھماکے اس وقت ہوئے جب فرانسیسی صدر ایک ہوٹل میں سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کر رہے تھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زخمیوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
شامی سرکاری میڈیا کے مطابق پہلا دھماکا اس وقت ہوا جب صدر میکرون کا قافلہ ہوٹل سے صدارتی محل کی جانب روانہ ہو رہا تھا۔ اگرچہ دھماکا قریب ہوا، تاہم فرانسیسی حکام کے مطابق صدر میکرون اور ان کے وفد کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق دوسرا دھماکا ایک ایمبولینس کے قریب ہوا، جہاں تقریباً دو درجن افراد موجود تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد قریبی دکانوں کے نزدیک آگ کے شعلے اور سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
Breaking: The death toll from the explosions in the Syrian capital, Damascus, has risen to three, with dozens of people also injured, coinciding with the French President’s visit to #Syria.
Terrorism Strikes #Damascus Again. pic.twitter.com/gTspMucnu4
— Mohammad Alasakra (@mohammed_asakra) July 7, 2026
شامی سکیورٹی فورسز نے واقعے کے ذمہ دار عناصر کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام نے علاقے میں سکیورٹی مزید بڑھا دی ہے اور دھماکوں کی وجوہات جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی صدارتی دفتر نے کہا کہ دھماکوں کی آواز صدر میکرون کے قافلے تک نہیں پہنچی اور ان کے ہمراہ موجود صحافیوں نے بھی کسی ہنگامی صورتحال کا مشاہدہ نہیں کیا۔ حکام کے مطابق فرانسیسی وفد مکمل طور پر محفوظ رہا۔
صدر ایمانوئل میکرون نے بعد ازاں ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ان کا دورہ شام معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ واقعے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں اور دمشق میں سکیورٹی الرٹ برقرار ہے۔