بھارت انڈونیشیا کو براہموس سپرسانک کروز میزائل اور آسٹرا فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل فراہم کرے گا۔ بھارت کا انڈونیشیا کو براہموس میزائل فراہم کرنے کا معاہدہ تقریباً 63 کروڑ ڈالر مالیت کا ہے اور توقع ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جکارتہ کے دورے کے دوران اس پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔
بھارتی حکام کے مطابق اس معاہدے کے بعد انڈونیشیا براہموس میزائل سسٹم حاصل کرنے والا تیسرا ملک بن جائے گا۔ یہ معاہدہ بھارت کی دفاعی برآمدات میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ دے گا۔
براہموس میزائل بھارت اور روس کی مشترکہ کاوش سے تیار کیا گیا ہے اور اسے دنیا کے تیز ترین سپرسانک کروز میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ میزائل زمین، سمندر اور فضاء سے داغا جا سکتا ہے، جبکہ آسٹرا میزائل انڈونیشیا کی روسی ساختہ سخوئی جنگی طیاروں میں نصب کیے جا سکیں گے۔
رواں سال مارچ میں انڈونیشیا نے اعلان کیا تھا کہ براہموس میزائل کی خریداری کے لیے بھارت کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ ابتدائی طور پر معاہدے کی مالیت 20 سے 35 کروڑ ڈالر بتائی جا رہی تھی، تاہم اب اس کی مجموعی مالیت تقریباً 63 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
حکام کے مطابق دفاعی پیکج میں میزائل سسٹمز کے علاوہ معاون انفراسٹرکچر، آپریٹرز کی تربیت، دیکھ بھال کی سہولت اور طویل المدتی تکنیکی معاونت بھی شامل ہوگی۔ انڈونیشیا اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مرحلہ وار اضافہ کرے گا تاکہ نظام کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
وزیراعظم نریندر مودی اپنے دورے کے دوران انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے سمندری سلامتی، دفاعی صنعت میں تعاون، علاقائی روابط اور بحرالکاہل کے خطے میں مشترکہ حکمت عملی پر بھی بات چیت کریں گے۔ یہ دورہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوروں کا بھی حصہ ہے۔
یہ دفاعی معاہدہ بھارت اور انڈونیشیا کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2024-25 کے مالی سال میں دوطرفہ تجارت 28.15 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بھارت اپنی "ایکٹ ایسٹ” پالیسی کے تحت جنوب مشرقی ایشیا میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔